LIVE
اہم خبر
برطانیہ: قومی نگہداشت سروس مفت، قرض سے فنڈنگ نہیں ہوگیایسٹونیا کی وزیراعظم: روس کی تخریب کاری سے خوفزدہ نہیں ہوں گےروسی تخریب کاری ناکام، نیٹو یوکرین کی حمایت جاری رکھے گا: روٹےتوانائی کے اخراجات کے ردعمل میں یورپ میں ہیٹ پمپ کی فروخت بڑھیبنگلہ دیش کے نوجوانوں کا موسمیاتی منشور مقامی مطالبات کو COP31 تک لے گیابرطانیہ کے موسمیاتی نگران ادارے نے ہیتھرو توسیع کے ساتھ ہوا بازی کی صفائی کا منصوبہ لازم قرار دیاگوتریس نے نیویارک موسمیاتی اجلاس میں فوسل ایندھن سے منتقلی کے منصوبوں پر زور دیاخوراک کے ضیاع سے آگاہی کا دن جنگلات اور موسمیاتی دباؤ کے تعلق کو اجاگر کرے گاکوپ 31 کے میزبانوں پر فوسل ایندھن کو ایجنڈے میں شامل کرنے کا دباؤصدر کا دہشت گردی آپریشنز پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسینوینیسا ناکاتے: افریقہ ایسے بحران کی بھاری قیمت ادا کر رہا ہے جو اس نے پیدا نہیں کیااداکار گو سونگ ہوان جنوبی کوریا کی نیٹ زیرو مہم کے سفیر مقررجرمنی میں شمسی بجلی کی پیداوار نے ستمبر میں گزشتہ سال کا ریکارڈ توڑ دیاایف اے او کا انتباہ: دنیا کے جنگلات کی بحالی کے لیے وقت کم ہوتا جا رہا ہےامریکی استقبالیہ میں پاکستانی صحافیوں کی خدمات کو خراج تحسینکیف سائنس اکیڈمی پر روسی حملہ: ‘یہ دہشت گردی ہےامریکا: 200 سال بعد پہلی بار خاتون کو سزائے موت دی جائے گیآسٹریلیا: شرح سود میں اضافہ، 2011 کے بعد بلند ترین سطح پرامریکی پابندیوں سے ایران کا فضائی سفر غیر متوقع، پروازیں منسوخبرطانیہ: قومی نگہداشت سروس مفت، قرض سے فنڈنگ نہیں ہوگیایسٹونیا کی وزیراعظم: روس کی تخریب کاری سے خوفزدہ نہیں ہوں گےروسی تخریب کاری ناکام، نیٹو یوکرین کی حمایت جاری رکھے گا: روٹےتوانائی کے اخراجات کے ردعمل میں یورپ میں ہیٹ پمپ کی فروخت بڑھیبنگلہ دیش کے نوجوانوں کا موسمیاتی منشور مقامی مطالبات کو COP31 تک لے گیابرطانیہ کے موسمیاتی نگران ادارے نے ہیتھرو توسیع کے ساتھ ہوا بازی کی صفائی کا منصوبہ لازم قرار دیاگوتریس نے نیویارک موسمیاتی اجلاس میں فوسل ایندھن سے منتقلی کے منصوبوں پر زور دیاخوراک کے ضیاع سے آگاہی کا دن جنگلات اور موسمیاتی دباؤ کے تعلق کو اجاگر کرے گاکوپ 31 کے میزبانوں پر فوسل ایندھن کو ایجنڈے میں شامل کرنے کا دباؤصدر کا دہشت گردی آپریشنز پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسینوینیسا ناکاتے: افریقہ ایسے بحران کی بھاری قیمت ادا کر رہا ہے جو اس نے پیدا نہیں کیااداکار گو سونگ ہوان جنوبی کوریا کی نیٹ زیرو مہم کے سفیر مقررجرمنی میں شمسی بجلی کی پیداوار نے ستمبر میں گزشتہ سال کا ریکارڈ توڑ دیاایف اے او کا انتباہ: دنیا کے جنگلات کی بحالی کے لیے وقت کم ہوتا جا رہا ہےامریکی استقبالیہ میں پاکستانی صحافیوں کی خدمات کو خراج تحسینکیف سائنس اکیڈمی پر روسی حملہ: ‘یہ دہشت گردی ہےامریکا: 200 سال بعد پہلی بار خاتون کو سزائے موت دی جائے گیآسٹریلیا: شرح سود میں اضافہ، 2011 کے بعد بلند ترین سطح پرامریکی پابندیوں سے ایران کا فضائی سفر غیر متوقع، پروازیں منسوخ
Slider Main

صدر کا دہشت گردی آپریشنز پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین

usman javedشائع شدہ 29 ستمبر، 2026
صدر کا دہشت گردی آپریشنز پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
خصوصی کوریج: صدر کا دہشت گردی آپریشنز پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین / وطن نیوز آرکائیو
Share this story

اسلام آباد: صدر آصف علی زرداری نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشنز پر سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم اپنی بہادر افواج کے عزم اور قربانیوں پر فخر کرتی ہے اور دہشت گردی کے خاتمے تک یہ آپریشنز پوری قوت سے جاری رہیں گے۔

  • صدر زرداری نے دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لیے مؤثر حکمت عملی کی تعریف کی۔
  • انہوں نے زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے ہزاروں قیمتی جانیں قربان کی ہیں۔
  • صدر نے کہا کہ پاکستانی قوم اور مسلح افواج امن و استحکام کے دشمنوں کے عزائم کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
  • انہوں نے دوست ممالک کے تعاون سے امن دشمنوں کی ہر کوشش کو ناکام بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں

صدر آصف علی زرداری نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ اور عالمی امن کے قیام کے لیے ہزاروں بہادر سپوتوں کی قربانیاں دی ہیں۔ یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور ملک میں امن و امان کی بحالی کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رہے گی۔

  1. دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں پاکستانیوں کی جانوں کا نذرانہ پیش کیا گیا۔
  2. ان قربانیوں کا مقصد ملک میں امن و استحکام قائم کرنا تھا۔
  3. حکومت اور مسلح افواج دہشت گردوں کے خلاف پرعزم ہیں۔
  4. عوام کی حمایت سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ممکن ہے۔

سیکیورٹی فورسز کی کارکردگی پر صدر کا اظہار اطمینان

صدر مملکت نے سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشنز کی مؤثر انداز میں نگرانی اور ان کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لیے اختیار کی گئی حکمت عملی پر گہرے اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور عزم قابل تحسین ہے۔

آپریشنز کی کامیابی اور حکمت عملی

  • بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشنز۔
  • دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لیے مؤثر حکمت عملی۔
  • سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیت کی تعریف۔
  • آپریشنز کی کامیابی پر صدر کا گہرا اطمینان۔

قوم کا فخر: سیکیورٹی فورسز کا عزم

صدر زرداری نے اس بات پر زور دیا کہ پوری قوم اپنی سیکیورٹی فورسز کے جوانوں کے عزم، حوصلے اور قربانیوں پر فخر کرتی ہے۔ ان کی شبانہ روز محنت اور فرض شناسی کی بدولت ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک اس لعنت کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا۔

  • قوم کو اپنی سیکیورٹی فورسز کے عزم پر فخر ہے۔
  • جوانوں کی قربانیاں اور محنت قابل تحسین ہے۔
  • دہشت گردی کے خاتمے تک آپریشنز جاری رہیں گے۔
  • ملک میں امن و امان کی بحالی اولین ترجیح ہے۔

امن و استحکام کے دشمنوں کے خلاف جدوجہد

صدر مملکت نے کہا کہ پاکستانی قوم اور اس کی بہادر مسلح افواج ملک، خطے اور دنیا میں امن و استحکام کے دشمنوں کے عزائم کو ناکام بنانے کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے دوست ممالک اور اتحادیوں کے تعاون سے امن دشمن عناصر کی ہر کوشش کو ناکام بنائیں گے۔

  1. پاکستان امن و استحکام کے دشمنوں کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
  2. مسلح افواج دشمنوں کے عزائم کو ناکام بنانے کے لیے تیار ہیں۔
  3. دوست ممالک کے تعاون سے امن دشمنوں کی سازشیں ناکام بنائی جائیں گی۔
  4. خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کا کردار اہم ہے۔

دہشت گردی کا خاتمہ: ایک قومی عزم

صدر آصف علی زرداری نے دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشنز کی کامیابی کو سیکیورٹی فورسز کی غیر معمولی کارکردگی کا نتیجہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان آپریشنز کے دوران سیکیورٹی فورسز نے بے مثال جرات اور بہادری کا مظاہرہ کیا اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ آپریشنز ملک کے طول و عرض میں جاری رہیں گے تاکہ ہر قسم کی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔

نتیجہ

صدر آصف علی زرداری کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف کامیاب آپریشنز پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرنا ملک کی داخلی سلامتی کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ بیان نہ صرف سیکیورٹی اہلکاروں کے حوصلے بلند کرے گا بلکہ عوام میں بھی تحفظ کا احساس مضبوط کرے گا۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں جاری آپریشنز کا مقصد ملک کو دہشت گردی سے پاک کرنا ہے، اور اس مقصد کے حصول کے لیے حکومت اور مسلح افواج پرعزم ہیں۔

پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری قیمت ادا کی ہے، لیکن اس کے باوجود ملک کی سلامتی کے ادارے امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ صدر کے بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ملک دہشت گردی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گا اور دشمنوں کے عزائم کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ دوست ممالک کے تعاون سے یہ جنگ مزید مؤثر ہوگی اور خطے میں امن و استحکام کو فروغ ملے گا۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

صدر نے کن علاقوں میں دہشت گردی آپریشنز کو سراہا؟

صدر آصف علی زرداری نے خاص طور پر بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشنز کو سراہا ہے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کے بارے میں کیا کہا گیا؟

صدر نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ اور عالمی امن کے قیام کے لیے ہزاروں بہادر سپوتوں کی قربانیاں دی ہیں۔

صدر نے سیکیورٹی فورسز کے بارے میں کیا کہا؟

صدر نے سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیت، عزم اور جرات کو سراہا اور کہا کہ پوری قوم ان پر فخر کرتی ہے۔

دہشت گردی کے خلاف آپریشنز کب تک جاری رہیں گے؟

صدر نے زور دیا کہ دہشت گردی کے خاتمے تک یہ آپریشنز پوری قوت سے جاری رہیں گے۔

سیارہ اور ماحول

ماحولیات اور استحکام

مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک سبز اور زیادہ پائیدار سیارے کی طرف تبدیلی لانے والی خبریں، کہانیاں اور حل۔

توانائی کے اخراجات کے ردعمل میں یورپ میں ہیٹ پمپ کی فروخت بڑھی
نمایاں خبر

توانائی کے اخراجات کے ردعمل میں یورپ میں ہیٹ پمپ کی فروخت بڑھی

یورپی ہیٹ پمپ ایسوسی ایشن کے مطابق 2026 کے پہلے نصف میں 12 ممالک میں گھریلو ہیٹ پمپ کی فروخت 11 فیصد بڑھی، توانائی قیمتیں اور ٹیکس اہم عوامل رہے۔

مکمل خبر پڑھیں
سب دیکھیں

ہر قدم اہم ہے

آج کے چھوٹے اقدامات، کل کے بڑے اثرات۔

مزید کہانیاں دیکھیں