ڈنمارک کی وزارت تعلیم نے 8 اکتوبر 2026 کو ایک ایسا بل پارلیمنٹ میں پیش کیا ہے جو اسکولوں میں اساتذہ کو جسمانی مداخلت کے وسیع اختیارات دیتا ہے۔ اگر یہ بل منظور ہوا تو اساتذہ خلل ڈالنے والے طالب علم کو روک سکیں گے یا اس کی مرضی کے خلاف اسے دوسرے کمرے میں لے جا سکیں گے۔ ڈنمارک کے اسکولوں میں جسمانی مداخلت سے متعلق یہ تبدیلی تقریباً 60 سال پرانی پالیسی کی سب سے بڑی اصلاح ہوگی۔
اہم نکات
- ڈنمارک کی وزارت تعلیم نے 8 اکتوبر 2026 کو بل فولکیٹنگ یعنی ڈینش پارلیمنٹ میں پیش کیا۔
- موجودہ قانون 1967 سے نافذ ہے جس کے تحت اساتذہ صرف اس صورت میں جسمانی مداخلت کر سکتے ہیں جب طالب علم خود، دوسروں یا اسکول کی املاک کے لیے خطرہ بنے۔
- نئے بل کے تحت طالب علم کو روکا جا سکتا ہے، اسے ایک جگہ رکھا جا سکتا ہے یا اس کی مرضی کے خلاف دوسرے کمرے میں لے جایا جا سکتا ہے، بشرطیکہ وہ کلاس میں شدید خلل ڈالے یا دوسروں کو ہراساں کرے۔
- ہر مداخلت صرف غیر معمولی صورتوں میں، حالات کے تناسب میں اور انتہائی نرمی سے ہونی چاہیے؛ والدین اور متعلقہ میونسپل کونسل کو اطلاع دینا لازم ہوگا۔
- حکومت کا ارادہ ہے کہ یہ قانون اگست 2027 سے نافذ ہو۔
- اساتذہ یونین طویل عرصے سے واضح رہنمائی کا مطالبہ کر رہی تھی، جبکہ بچوں کے حقوق کی تنظیموں نے خدشات کا اظہار کیا ہے۔
ڈنمارک اسکول بل میں کیا تبدیلی آئے گی؟
لے مونڈ کی رپورٹ کے مطابق، ڈنمارک میں 1967 سے اساتذہ کو جسمانی مداخلت کی اجازت صرف اس صورت میں ہے جب کوئی طالب علم اپنی یا دوسروں کی حفاظت کو خطرے میں ڈالے۔ نئے بل کے تحت اساتذہ اس صورت میں بھی مداخلت کر سکیں گے جب کوئی طالب علم دوسروں کو ہراساں کرے، ان کی توہین کرے یا کلاس میں نمایاں خلل ڈالے۔ اجازت شدہ اقدامات میں طالب علم کو پکڑنا، اسے ایک جگہ روکنا یا اسے دوسرے کمرے میں لے جانا شامل ہو سکتا ہے۔
بل میں واضح کیا گیا ہے کہ جسمانی مداخلت کبھی بھی دیکھ بھال اور تعلیمی اقدامات کا متبادل نہیں ہو سکتی۔ ہر مداخلت حالات کے مطابق نرمی اور مختصر انداز میں ہونی چاہیے اور ہر طالب علم کی ذاتی حرمت کا مکمل احترام کیا جائے گا۔

حکومت کی دلیل کیا ہے؟
وزارت تعلیم کا کہنا ہے کہ اسکولوں میں تشدد اور خلل کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ یکم اکتوبر کو شائع ہونے والے وزارت کے سروے کے مطابق 2025 کے دوران 55 فیصد کلاسوں میں کم از کم ایک بار طلبہ کے درمیان جسمانی تشدد کا واقعہ پیش آیا، اور ان میں سے 36 فیصد کلاسوں میں یہ واقعات ماہانہ بنیادوں پر ہوئے۔ چار میں سے ایک سے زائد اساتذہ کا ماننا ہے کہ ان کے اسکول میں صورتحال بگڑی ہے، جبکہ ہر پانچ میں سے ایک کلاس روم میں اساتذہ پر تشدد کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔
وزیر تعلیم میگنس ہونکے کا کہنا ہے کہ جب صورتحال بگڑ جائے تو اساتذہ کو اپنے اختیارات کے بارے میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے، اور کسی استاد کو ضروری مداخلت پر ملازمت سے نکالے جانے کا خوف نہیں ہونا چاہیے۔ اساتذہ کی قومی یونین نے بھی طویل عرصے سے خلل ڈالنے والے طلبہ سے نمٹنے کے لیے واضح رہنمائی کا مطالبہ کیا تھا۔
تنقید کیا ہے؟
بچوں کے حقوق کی تنظیموں اور محققین نے اس بل پر شدید خدشات کا اظہار کیا ہے۔ محقق لوئیز کلنگے کا کہنا ہے کہ یہ قانون کشیدگی بڑھا سکتا ہے اور تنازعات کو طاقت سے حل کرنے کی ثقافت کو معمول بنا سکتا ہے۔ بچوں کے حقوق کی قومی تنظیم کی ڈائریکٹر راسموس کیلڈال کا کہنا ہے کہ اگر اساتذہ پولیس افسران کی طرح کام کریں گے تو طلبہ اور اساتذہ کے درمیان اعتماد کا رشتہ ٹوٹ جائے گا، اور یہ اصلاح مسائل حل کرنے کے بجائے نئے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔

نتیجہ
اگر یہ بل منظور ہو گیا تو یہ ڈنمارک کے اسکول نظام میں تقریباً 60 سال پرانی پالیسی کی سب سے بڑی تبدیلی ہوگی۔ حکومت کا موقف ہے کہ واضح قوانین اساتذہ اور طلبہ دونوں کا تحفظ کریں گے، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ طاقت کا استعمال تعلیم اور رہنمائی کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ بل کی حتمی منظوری پارلیمنٹ کے مباحثے کے بعد ہوگی۔ ڈنمارک کی مزید خبروں کے لیے وطن نیوز اردو ملاحظہ کریں۔































