عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر تیزی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے، جس کے اثرات پاکستان کے صرافہ بازاروں پر بھی مرتب ہوئے ہیں جہاں فی تولہ سونے کی قیمت چار لاکھ 35 ہزار روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔
اہم نکات
- 8 اکتوبر 2026 کو پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت 600 روپے اضافے سے 435036 روپے ہوگئی
- دس گرام سونے کی قیمت 515 روپے بڑھ کر 372973 روپے ریکارڈ کی گئی
- عالمی منڈی میں سونا 4125 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ ہوا، 9 اکتوبر کو 4194 ڈالر پر بند ہوا
- چین کے مرکزی بینک نے ستمبر میں 23 ٹن سونا خریدا، مسلسل 23 ویں مہینے ذخائر بڑھائے
- ورلڈ گولڈ کونسل کے مطابق دوسری سہ ماہی میں مرکزی بینکوں نے ریکارڈ 289 ٹن سونا خریدا
پاکستان میں سونے کے تازہ نرخ
کراچی کے صرافہ بازار کی 8 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی منڈی میں فی اونس سونے کی قیمت 6 ڈالر اضافے کے ساتھ 4125 ڈالر ہونے کے بعد مقامی نرخوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ فی تولہ سونے کی قیمت 600 روپے بڑھ کر 435036 روپے اور دس گرام سونے کی قیمت 515 روپے اضافے سے 372973 روپے ہوگئی۔
| تفصیل | قیمت | تاریخ |
|---|---|---|
| فی تولہ سونا (پاکستان) | 435036 روپے | 8 اکتوبر 2026 |
| دس گرام سونا (پاکستان) | 372973 روپے | 8 اکتوبر 2026 |
| فی گرام 24 قیراط (پاکستان) | 37509 روپے | 11 اکتوبر 2026 |
| فی گرام 22 قیراط (پاکستان) | 34383 روپے | 11 اکتوبر 2026 |
| عالمی قیمت فی اونس | 4125 ڈالر | 8 اکتوبر 2026 |
11 اکتوبر کے تازہ اعداد کے مطابق 24 قیراط سونا 37509 روپے فی گرام پر ہے، جس کے حساب سے فی تولہ قیمت تقریباً چار لاکھ سینتیس ہزار روپے بنتی ہے۔ پاکستان میں سونے کی زیادہ تر مانگ زیورات کی ہے۔

عالمی منڈی کی صورتحال
عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں میں اس سال نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ اگست کے وسط میں سونا 4700 ڈالر فی اونس کی بلندی کو چھوا، پھر اکتوبر کے آغاز میں 4060 ڈالر تک گر گیا اور 9 اکتوبر کو 4194 ڈالر پر بند ہوا۔ جنوری میں سونا تقریباً 5600 ڈالر کی ریکارڈ بلندی پر تھا، جس سے موجودہ قیمت تقریباً 26 فیصد کم ہے۔
قیمتوں میں اس کمی کی ایک بڑی وجہ امریکہ میں بانڈز کی بڑھتی ہوئی پیداوار ہے، جو 5 فیصد کی حد میں ہے۔ چونکہ سونے پر کوئی سود نہیں ملتا، اس لیے زیادہ پیداوار والے بانڈز سرمایہ کاروں کے لیے نسبتاً پرکشش ہو جاتے ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق مرکزی بینکوں کی مسلسل خریداری قیمتوں کو سہارا دے رہی ہے۔

مرکزی بینک کیوں سونا خرید رہے ہیں
ورلڈ گولڈ کونسل کے اعداد کے مطابق 2026 کی دوسری سہ ماہی میں مرکزی بینکوں نے مجموعی طور پر 289 ٹن سونا خریدا، جو کسی بھی دوسری سہ ماہی کا ریکارڈ ہے اور پہلی سہ ماہی کے 57 ٹن کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ ہے۔ یورپی مرکزی بینک کے مطابق سونا امریکی ٹریژری بانڈز کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کا دوسرا بڑا ریزرو اثاثہ بن چکا ہے، جو مجموعی ذخائر کا تقریباً 27 فیصد ہے۔
چین کا مرکزی بینک اس دوڑ میں سب سے آگے ہے۔ اس نے جولائی میں 20 ٹن، اگست میں 20 ٹن اور ستمبر میں 23 ٹن سونا خریدا۔ ستمبر کی خرید ستمبر 2023 کے بعد سب سے بڑی ماہانہ خرید تھی اور یہ مسلسل 23 واں مہینہ ہے جب چین نے اپنے ذخائر بڑھائے ہیں۔ 2026 میں چین مجموعی طور پر 103 ٹن سونا خرید چکا ہے اور اس کے ذخائر ریکارڈ 2410 ٹن تک پہنچ گئے ہیں، جس سے وہ امریکہ، جرمنی، اٹلی اور فرانس کے بعد دنیا کا پانچواں بڑا سونا رکھنے والا ملک بن گیا ہے۔ پولینڈ نے بھی اگست میں 8 ٹن سونا خریدا اور اس سال اس کی مجموعی خرید تقریباً 100 ٹن تک پہنچ گئی ہے۔
مرکزی بینکوں کے ایک سروے میں 84 فیصد نے کہا کہ اگلے پانچ سال میں عالمی ذخائر میں سونے کا حصہ مزید بڑھے گا۔ پاکستان میں جائیداد اور مالیاتی منڈیوں کی صورتحال پر یہ کاروباری رپورٹ بھی دیکھیں۔
خلاصہ
سونے کی قیمتوں کا موجودہ رجحان دو متضاد قوتوں کے درمیان پھنسا ہوا ہے: ایک طرف امریکہ میں بلند شرح سود قیمتیں دبا رہی ہے، دوسری طرف مرکزی بینکوں کی ریکارڈ خریداری اسے سہارا دے رہی ہے۔ پاکستان کے خریداروں کے لیے اس کا مطلب ہے کہ آنے والے دنوں میں نرخ عالمی منڈی کے ساتھ ساتھ ہی حرکت کریں گے۔ کاروبار کی مزید خبروں کے لیے وطن نیوز اردو دیکھتے رہیں۔
































