مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک نئی قسم کے ماڈل نے سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرا لی ہے۔ ٹائپ سیف اے آئی نامی اسٹارٹ اپ نے نو اکتوبر دو ہزار چھبیس کو 87 کروڑ ڈالر کی فنڈنگ حاصل کی ہے، جس کے بعد کمپنی کی قدر 7.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ صرف چوبیس دن پہلے اس کمپنی کی قدر 20 کروڑ ڈالر تھی۔
اہم نکات
- ٹائپ سیف اے آئی نے نو اکتوبر کو 87 کروڑ ڈالر کا سیریز اے راؤنڈ مکمل کیا، جس کی قیادت آندریسن ہورووٹز نے کی؛ سیکویا کیپٹل، ڈی سی وی سی اور فرشتہ سرمایہ کار بھی شریک ہوئے۔
- اس راؤنڈ کے بعد کمپنی کی قدر 7.5 ارب ڈالر ہو گئی، جو چوبیس دن پہلے کی 20 کروڑ ڈالر کی قدر سے 37.5 گنا زیادہ ہے۔
- کمپنی کا جیو نامی ماڈل روایتی لسانی ماڈل نہیں ہے؛ یہ متن کے بجائے سافٹ ویئر کے لیے براہِ راست قابلِ استعمال فیصلے اور اعتماد کے اسکور پیش کرتا ہے۔
- کمپنی کا دعویٰ ہے کہ فارچیون 500 کمپنیوں میں سے تقریباً ایک تہائی پہلے ہی جیو استعمال کر رہی ہیں، اگرچہ یہ دعوے آزادانہ طور پر تصدیق شدہ نہیں ہیں۔
- ٹائپ سیف کی بنیاد دو ہزار چوبیس میں ڈیوگو المیڈا (سابق اوپن اے آئی محقق)، ساشا شنگ (سابق میٹا انجینئر) اور ایرک گافنی نے رکھی تھی۔
فنڈنگ راؤنڈ کی تفصیلات
نئی فنڈنگ کا اعلان نو اکتوبر کو ہوا، جس کی قیادت معروف سرمایہ کاری فرم آندریسن ہورووٹز نے کی۔ اس فرم کے پارٹنر مارٹن کاساڈو اب ٹائپ سیف کے بورڈ میں بھی شامل ہوں گے۔ سیکویا کیپٹل، پہلے سے سرمایہ کاری کرنے والی ڈی سی وی سی اور کئی فرشتہ سرمایہ کاروں نے بھی اس راؤنڈ میں حصہ لیا۔
اس سے پہلے پندرہ ستمبر کو کمپنی نے 4 کروڑ ڈالر کا سیڈ راؤنڈ حاصل کیا تھا، جس کی قیادت ڈی سی وی سی نے کی تھی اور اس وقت کمپنی کی قدر 20 کروڑ ڈالر لگائی گئی تھی۔ اسی دن کمپنی نے اپنا جیو ماڈل بھی متعارف کرایا تھا۔ صرف چوبیس دنوں میں قدر میں 37.5 گنا اضافہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سرمایہ کاری کی موجودہ تیزی کا واضح ثبوت ہے۔

جیو ماڈل کیا ہے اور یہ مختلف کیوں ہے
جیو ٹرانسفارمر فنِ تعمیر پر مبنی ہے، جو زیادہ تر بڑے لسانی ماڈلوں کی بنیاد بھی ہے، لیکن یہ لسانی ماڈل نہیں ہے۔ یہ متن پیدا نہیں کرتا؛ اس کے بجائے یہ احتمالات پیش کرتا ہے، جنہیں کمپنی کیلیبریٹڈ فیصلے کہتی ہے۔ یعنی ڈویلپر پہلے سے طے شدہ فارمیٹ میں سوال پوچھتا ہے اور ماڈل سیدھا وہ جواب دیتا ہے جسے سافٹ ویئر براہِ راست استعمال کر سکے، ساتھ میں اعتماد کا اسکور بھی ہوتا ہے۔
کمپنی کے شریک بانی ڈیوگو المیڈا کے مطابق ہم چار برس سے انسانی زبان میں بہت اچھے ہو گئے ہیں، لیکن یہ خودکار کاموں کے لیے کارآمد نہیں کیونکہ کمپیوٹر ایک مختلف زبان بولتے ہیں۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ جیو ایک وقت میں متوازی طور پر نمونے لیتا ہے، اس لیے اس کا جواب ایک سو ملی سیکنڈ سے بھی کم وقت میں آتا ہے اور یہ روایتی بڑے ماڈلوں کے مقابلے میں کہیں سستا چلتا ہے۔
تیزی سے مقبولیت کی وجہ
جیو کی مقبولیت میں سب سے بڑا کردار اس کے وائرل لانچ نے ادا کیا۔ لانچ کی ویڈیو کو کروڑوں بار دیکھا گیا اور چند دنوں میں ماڈل کے صارفین کی تعداد دس لاکھ سے تجاوز کر گئی۔ تاہم یہ تمام اعداد و شمار کمپنی اور اس کے سرمایہ کاروں کی جانب سے پیش کیے گئے ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔ سرمایہ کاروں کی دلچسپی کی اصل وجہ خود ماڈل سے زیادہ وہ نیا زمرہ ہے جسے یہ ماڈل بنا رہا ہے: ایسے اے آئی نظام جو متن کے بجائے براہِ راست فیصلے دیں۔ وطن نیوز اردو پر ٹیکنالوجی کی مزید خبریں پڑھیں۔

مقابلے کا بڑھتا میدان
جیو کی کامیابی کے بعد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی اسی سمت میں قدم بڑھا رہی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اوپن اے آئی نے چھ اکتوبر کو اپنا ڈیسیژنز اے پی آئی متعارف کرایا ہے، جب کہ ایمیزون کی کلاؤڈ سروس نے یکم اکتوبر کو اسٹرینڈز ڈیسائیڈر 2 بی نامی اوپن سورس ماڈل جاری کیا اور کلاؤڈ فلیئر نے کلیف نامی فیصلہ ساز ماڈل پیش کیے ہیں۔
اہم اعداد و شمار ایک نظر میں
| پہلو | تفصیل |
|---|---|
| سیریز اے راؤنڈ | 87 کروڑ ڈالر (نو اکتوبر) |
| موجودہ قدر | 7.5 ارب ڈالر |
| سیڈ راؤنڈ | 4 کروڑ ڈالر (پندرہ ستمبر) |
| سیڈ کے وقت قدر | 20 کروڑ ڈالر |
| مرکزی سرمایہ کار | آندریسن ہورووٹز، سیکویا، ڈی سی وی سی |
| ماڈل کا نام | جیو (پندرہ ستمبر کو لانچ) |
| جواب کی رفتار | ایک سو ملی سیکنڈ سے کم (کمپنی کا دعویٰ) |
نتیجہ
ٹائپ سیف اے آئی کی 87 کروڑ ڈالر کی فنڈنگ اس بات کا اشارہ ہے کہ سرمایہ کار اب صرف بہتر چیٹ بوٹس کے بجائے ایسے اے آئی نظاموں پر شرط لگا رہے ہیں جو براہِ راست کام انجام دیں۔ تاہم 7.5 ارب ڈالر کی قدر ایک نئی کمپنی کے لیے بہت بڑی ہے، اور اصل امتحان یہ ہوگا کہ جیو پیداواری استعمال میں کتنا قابلِ اعتماد ثابت ہوتا ہے۔
































