عالمی ادارہ صحت یعنی ڈبلیو ایچ او یورپ کی ایک نئی تاریخی رپورٹ کے مطابق یورپ کے 29 ممالک میں سروے کیے گئے تین میں سے دو سے زائد نوجوان بالغ افراد نے بچپن میں کم از کم ایک مشکل تجربے کا سامنا کیا ہے۔ یہ رپورٹ 6 اکتوبر 2026 کو جاری کی گئی اور اسے خطے میں بچپن کی مشکلات کا پہلا ہم آہنگ کثیر ملکی جائزہ قرار دیا گیا ہے۔
اہم نکات
- ڈبلیو ایچ او یورپ کی رپورٹ 6 اکتوبر 2026 کو جاری ہوئی۔
- 29 یورپی ممالک یعنی یورپی یونین کے 27 ارکان، آئس لینڈ اور ناروے میں 18 سے 30 سال کی عمر کے 26 ہزار 741 افراد کا سروے کیا گیا۔
- تین میں سے دو سے زائد نوجوانوں نے بچپن کی کم از کم ایک مشکل کا سامنا کیا، جن میں جذباتی زیادتی، جسمانی نظر اندازی اور گھریلو تشدد شامل ہیں۔
- پانچ میں سے ایک سے زائد نوجوانوں نے چار یا اس سے زائد مشکلات کا سامنا کیا۔
- چار یا زائد مشکلات کا سامنا کرنے والے 76 فیصد سے زائد نوجوانوں نے محسوس کیا کہ انہیں گزشتہ سال ذہنی صحت کی پیشہ ورانہ مدد کی ضرورت تھی، جبکہ بغیر مشکل والے نوجوانوں میں یہ شرح 37 فیصد سے کم تھی۔
- یہ تحقیق لیورپول جان مورز یونیورسٹی کے محققین کے اشتراک سے نومبر 2025 سے جنوری 2026 کے دوران کی گئی۔
بچپن کی مشکلات یورپ میں کتنی عام ہیں؟
تحقیق میں مشکلات کی نو اقسام کا جائزہ لیا گیا، جن میں جذباتی زیادتی، جسمانی نظر اندازی، گھریلو تشدد کا سامنا کرنا اور ایسے گھرانے میں پرورش پانا شامل ہے جہاں کوئی فرد ذہنی بیماری یا نشے کی لت میں مبتلا ہو۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ بچپن کی مشکلات الگ تھلگ خاندانی مسائل نہیں بلکہ ایک وسیع سماجی چیلنج ہیں جو بالغ زندگی میں ذہنی صحت، معیار زندگی اور معاشی تحفظ کو متاثر کرتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مشکلات کا اثر جمع ہوتا جاتا ہے۔ پانچ میں سے ایک سے زائد نوجوانوں نے چار یا اس سے زائد مشکلات کا سامنا کیا، اور جتنی زیادہ مشکلات، بالغ زندگی میں اتنے ہی سنگین نتائج سامنے آئے۔

ذہنی صحت اور سماجی رویوں پر کیا اثرات پائے گئے؟
تحقیق میں چار یا زائد مشکلات کا سامنا کرنے والے نوجوانوں میں ذہنی صحت کے مسائل نمایاں طور پر زیادہ پائے گئے۔ ان میں سے 76 فیصد سے زائد نے محسوس کیا کہ انہیں گزشتہ سال ذہنی صحت کی پیشہ ورانہ مدد کی ضرورت تھی، جبکہ کسی مشکل کا سامنا نہ کرنے والوں میں یہ شرح 37 فیصد سے بھی کم تھی۔
تحقیق میں یہ بھی پایا گیا کہ چار یا زائد مشکلات والے نوجوانوں میں تشدد کا سامنا کرنے کا امکان چھ گنا زیادہ، تشدد کرنے کا امکان دس گنا زیادہ اور بچپن میں آن لائن ہراسانی کا سامنا کرنے کا امکان تقریباً آٹھ گنا زیادہ تھا۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ یہ نتائج صرف خاندانی مسائل کی عکاسی نہیں بلکہ ایک ایسا وسیع سماجی چیلنج ہے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات کی ضرورت ہے۔

نتیجہ
ڈبلیو ایچ او یورپ کی یہ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ بچپن کی مشکلات یورپ کے نوجوانوں میں غیر معمولی حد تک عام ہیں اور ان کے اثرات بالغ زندگی تک پھیلتے ہیں۔ رپورٹ میں خاندانوں، اسکولوں اور صحت کے نظاموں کے درمیان مربوط اقدامات پر زور دیا گیا ہے تاکہ بچوں کو محفوظ ماحول مل سکے اور متاثرہ نوجوانوں کو بروقت ذہنی صحت کی مدد فراہم کی جا سکے۔ صحت سے متعلق مزید خبروں کے لیے وطن نیوز اردو ملاحظہ کریں۔
































