اسلام آباد میں دس اکتوبر دو ہزار چھبیس کو وزیراعظم محمد شہباز شریف نے نیشنل ٹیکنالوجی پارک کا افتتاح کر دیا، جس کا نام اب دانش ٹیکنالوجی پارک رکھا گیا ہے۔ اس جدید سہولت کا مقصد پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو مضبوط بنانا اور نوجوانوں کو انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سمیت جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں نئے مواقع فراہم کرنا ہے۔
اہم نکات
- وزیراعظم شہباز شریف نے دس اکتوبر کو اسلام آباد میں نیشنل ٹیکنالوجی پارک کا افتتاح کیا اور اس کا نام دانش ٹیکنالوجی پارک رکھ دیا۔
- یہ منصوبہ چک شہزاد میں 14.9 ایکڑ اراضی پر تعمیر ہوا ہے اور اس کی لاگت 23.3 ارب روپے (تقریباً 9.27 کروڑ ڈالر) ہے، جو جنوبی کوریا کے ایگزم بینک کی مالی معاونت سے مکمل ہوا۔
- پارک کے آپریشن کے لیے شفاف بولی کے ذریعے ملکی اور غیر ملکی آئی ٹی و مصنوعی ذہانت کمپنیوں کو مدعو کیا جائے گا، جب کہ حکومت اسے براہِ راست نہیں چلائے گی۔
- وزیراعظم نے اعلان کیا کہ چاروں صوبوں سمیت آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی ایسے ہی جدید ٹیکنالوجی پارک قائم کیے جائیں گے۔
- افتتاحی تقریب میں وفاقی وزیر برائے آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ، اعلیٰ حکام اور جنوبی کوریا کے سفیر بھی شریک تھے۔
پارک میں کون کون سی سہولتیں ہوں گی
دانش ٹیکنالوجی پارک کو صرف ایک عمارت کے طور پر نہیں بلکہ ایک مکمل ٹیکنالوجی ماحولیاتی نظام کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ یہاں انکیوبیشن مراکز، انوویشن ہبز، اسٹارٹ اپس، چھوٹے و درمیانے کاروبار، صنعتکار، آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کے ماہرین، ماہرینِ تعلیم اور طلبہ ایک ہی چھت کے نیچے کام کریں گے۔
تقریب میں خطاب کے دوران وزیراعظم نے زور دیا کہ یہ منصوبہ محض بنیادی ڈھانچہ نہیں بلکہ نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی کی مہارتیں سکھانے اور ان کے جدید خیالات کو کامیاب کاروبار میں بدلنے کا ذریعہ بنے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی زراعت، مینوفیکچرنگ، کان کنی اور صنعت سمیت کئی شعبوں کی پیداواری صلاحیت بڑھا سکتی ہے۔

شفاف بولی اور پیشہ ورانہ انتظام
وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ پارک کے آپریشن کے لیے شفاف بولی کا عمل شروع کیا جائے اور ملک و بیرونِ ملک کی معروف آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کمپنیوں کو مدعو کیا جائے۔ ان کے بقول ٹھیکہ اس کمپنی کو دیا جائے گا جو بہترین معیارِ خدمت اور سازگار شرائط پیش کرے، تاکہ سہولت کو بین الاقوامی معیار کے مطابق پیشہ ور ماہرین چلائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دانش اسکولوں کی طرز پر دانش ٹیکنالوجی پارک بھی نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گا۔ وزیراعظم نے یہ بھی اعلان کیا کہ اسلام آباد کے اس پارک کو نمونہ بنا کر چاروں صوبوں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی ایسے ہی جدید پارک قائم کیے جائیں گے۔ نوجوانوں کے لیے بین الاقوامی سطح پر ملنے والے مواقع کی طرح یہ مقامی منصوبہ بھی نئی نسل کی صلاحیتوں کو آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
منصوبے کی بنیادی تفصیلات
| پہلو | تفصیل |
|---|---|
| مقام | چک شہزاد، اسلام آباد |
| رقبہ | 14.9 ایکڑ |
| تخمینہ لاگت | 23.3 ارب روپے (تقریباً 9.27 کروڑ ڈالر) |
| مالی معاونت | جنوبی کوریا کا ایگزم بینک |
| سنگِ بنیاد | دو ہزار سترہ تا اٹھارہ |
| افتتاح | دس اکتوبر دو ہزار چھبیس |
| انتظام | شفاف بولی کے ذریعے منتخب کمپنی |
سنگِ بنیاد سے افتتاح تک
وزیراعظم نے اعتراف کیا کہ اس منصوبے کے سنگِ بنیاد کو دو ہزار سترہ سے اٹھارہ کے دوران رکھا گیا تھا اور اس کی تکمیل میں کافی تاخیر ہوئی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ افتتاح کی تقریب کا محور ترقی ہونی چاہیے۔ افتتاحی تقریب میں جنوبی کوریا کے سفیر کی موجودگی اس بات کی عکاس تھی کہ یہ منصوبہ دونوں ملکوں کے تعاون سے مکمل ہوا ہے۔

نتیجہ
دانش ٹیکنالوجی پارک کا افتتاح پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ اس کی اصل کامیابی کا انحصار اب شفاف بولی کے ذریعے منتخب ہونے والی آپریٹنگ کمپنی اور نوجوانوں کو ملنے والی حقیقی تربیت پر ہوگا۔ مزید خبروں کے لیے وطن نیوز اردو ملاحظہ کریں۔
































