فرانس میں نوجوانوں کا احتجاج ملک گیر تحریک کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ستمبر کے وسط میں پیرس کے مضافاتی علاقے کرے تائی کے ایک ہائی اسکول سے شروع ہونے والی اس تحریک میں ہزاروں طلباء بوسیدہ اسکولوں کی عمارتوں، اساتذہ کی کمی اور تعلیمی عدم مساوات کے خلاف سڑکوں پر نکلے ہیں۔ پولیس کی مبینہ کارروائیوں نے عوامی غم و غصے کو مزید ہوا دے دی ہے۔
اہم نکات
- آغاز: 17 ستمبر 2026 کو کرے تائی کے لائسی انتوان-دو-سین-ایگزوپیری میں اساتذہ کی ہڑتال سے شروع ہونے والی تحریک اب فرانس بھر کے سینکڑوں اسکولوں تک پھیل چکی ہے۔
- بنیادی مطالبات: اساتذہ اور عملے کی کمی کا خاتمہ، 32 سے 35 طلباء والی بھیڑ بھری کلاسوں میں کمی، بوسیدہ عمارتوں کی مرمت اور یونیورسٹی داخلہ نظام پارکورسُپ میں اصلاح۔
- پیمانہ: تعلیمی وزارت کے مطابق احتجاج کے دوران ایک موقع پر 413 اسکول متاثر ہوئے؛ انٹیریئر منسٹری نے یکم اکتوبر کو تقریباً دو ہزار گرفتاریوں کی اطلاع دی۔
- پولیس ردعمل: مظاہرین کا الزام ہے کہ پولیس نے طلباء پر آنسو گیس اور بلاجواز طاقت استعمال کی؛ وزارت تعلیم نے 170 طلباء اور 65 عملے کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔
- وسیع تناظر: اسپین میں بھی رہائش کے بحران کے خلاف نوجوانوں کے مظاہرے جاری ہیں؛ میڈرڈ کے پوئیرتا ڈیل سول چوک میں ستمبر کے آخر سے خیمہ زن احتجاج ہو رہا ہے۔
فرانس میں نوجوانوں کے احتجاج کا پس منظر
کرے تائی کے لائسی انتوان-دو-سین-ایگزوپیری میں اساتذہ کی جانب سے عملے کی کمی اور ناکافی وسائل پر ہڑتال کے بعد طلباء بھی احتجاج میں شامل ہو گئے۔ چند ہی دنوں میں اسکولوں کی ناکہ بندیوں کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر پھیلیں اور تحریک پیرس کے علاقے سے نکل کر پورے ملک میں پھیل گئی۔ ستمبر کے آخر تک سینکڑوں اسکولوں میں داخلے روک دیے گئے یا کلاسیں معطل رہیں۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ برسوں کی بجٹ کٹوتیوں نے سرکاری تعلیمی نظام کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ تعلیم کو ایک بنیادی حق سمجھا جائے، نہ کہ ایک استحقاق۔ طلبہ یونینوں نے چار بنیادی مطالبات پیش کیے ہیں: مزید اساتذہ اور عملہ، بہتر اسکولی سہولتیں، چھوٹی کلاسیں اور قابل برداشت ٹائم ٹیبل۔

تعلیمی نظام کی خستہ حالی
فرانس کے بہت سے اسکولوں کی عمارتیں پرانی اور بوسیدہ ہو چکی ہیں۔ طلباء کے مطابق کئی اسکولوں میں ٹوٹی کھڑکیاں، پانی کا رساؤ، خراب بیت الخلاء اور شدید گرمی بڑے مسائل ہیں؛ گزشتہ موسم گرما کی شدید گرمی کی لہروں کے دوران کلاس رومز کا درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا تھا۔ اساتذہ کی کمی کے باعث کلاسوں کا سائز بڑھ گیا ہے اور کئی مضامین کی پڑھائی متاثر ہو رہی ہے۔
پولیس کی کارروائی پر غم و غصہ
مظاہروں کے دوران پولیس اور طلباء کے درمیان جھڑپوں نے تحریک کو مزید تیز کر دیا ہے۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ پولیس نے احتجاج کچلنے کے لیے آنسو گیس اور بلاجواز طاقت استعمال کی۔ ایک مظاہرے میں شریک طالب علم نے کہا کہ “ایک ایسی ریاست جو ہائی اسکول کے طلباء پر گیس استعمال کرتی ہے، وہ ایک کمزور ریاست ہے۔” انٹیریئر منسٹری کے مطابق جھڑپوں میں درجنوں سیکیورٹی اہلکار بھی زخمی ہوئے، جبکہ وزارت تعلیم نے طلباء اور عملے کے زخمیوں کی تصدیق کی ہے۔
اسپین میں رہائش کے بحران کے خلاف احتجاج
یہ بے چینی صرف فرانس تک محدود نہیں۔ اسپین میں 87 سالہ خاتون کے گھر سے بے دخلی کے واقعے کے بعد رہائش کے بحران کے خلاف نوجوانوں کے بڑے مظاہرے شروع ہوئے۔ 26 ستمبر کو میڈرڈ کے پوئیرتا ڈیل سول چوک میں خیمہ زن احتجاج قائم ہوا، اور 3 اکتوبر کو 50 سے زائد شہروں میں مظاہرے ہوئے جن میں صرف میڈرڈ میں دسیوں ہزار افراد شریک ہوئے۔ مظاہرین مکانوں کے بڑھتے کرایوں اور بے دخلیوں کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
نتیجہ
فرانس میں نوجوانوں کا سڑکوں پر نکلنا محض تعلیمی نظام کی خامیوں پر احتجاج نہیں، بلکہ ایک گہری سماجی اور اقتصادی بے چینی کی عکاسی ہے۔ بوسیدہ اسکولوں کی عمارتیں، اساتذہ کی کمی اور پولیس کی کارروائیوں کے الزامات نوجوان نسل کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا رہے ہیں۔ اسپین میں جاری رہائشی بحران کے احتجاج کے ساتھ یہ تحریک اس بات کا ثبوت ہے کہ یورپ کی نوجوان نسل اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کو تیار ہے۔
یہ خبر وطن نیوز کی ویب سائٹ پر بھی پڑھیں: فرانس میں نوجوانوں کا احتجاج — مزید یورپ کی خبریں۔








































