جرمن چانسلر فریڈرک مرز اتوار کی صبح یوکرین کے دارالحکومت کیف ایک غیر اعلانیہ دورے پر پہنچے، جہاں ان کی آمد کے فوراً بعد روسی افواج نے شہر کے نارتھ برج کو نشانہ بنایا۔ مرز کا کیف کا دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب روس دارالحکومت پر حملوں میں شدت لا رہا ہے اور یوکرینی حکام سردیوں سے قبل ایک مشکل صورتحال کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔
وٹن نیوز کے یورپ کے صفحے پر خطے کی مزید خبریں پڑھیں۔
اہم نکات
- جرمن چانسلر فریڈرک مرز اتوار کی صبح ریل کے ذریعے کیف پہنچے؛ یوکرینی وزیر خارجہ اندری سی بیہا نے اسٹیشن پر ان کا استقبال کیا۔
- ان کی آمد کے فوراً بعد روس نے دریائے دنیپر پر واقع نارتھ برج کو نشانہ بنایا — شہر کے میئر ویتالی کلیچکو نے نقصان کی تصدیق کی۔
- جرمن حکام کے مطابق اس دورے کے دوران ایک ارب یورو فوجی امداد اور 35 کروڑ یورو توانائی کے شعبے کی بحالی کے لیے جاری کیے جائیں گے۔
- انٹر سیپٹر ڈرونز اور دیگر دفاعی ٹیکنالوجی کی مشترکہ پیداوار کے معاہدے کو حتمی شکل دی جائے گی؛ وزیر معیشت کیتھرائنا رائشے اور دفاعی و توانائی کمپنیوں کے سربراہان بھی وفد میں شامل ہیں۔
- ہفتے کے روز روس نے غیر ملکیوں اور سفارت کاروں کو خبردار کیا تھا کہ وہ کیف چھوڑ دیں کیونکہ شہر پر بڑے فضائی حملے ہوں گے۔
- مرز نے صدر ولودیمیر زیلنسکی سے ملاقات کی اور ان کے ہمراہ انڈیپینڈنس اسکوائر میں جنگ میں مارے گئے یوکرینیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔
- دونوں رہنماؤں نے یوکرین کی قومی اکیڈمی آف سائنسز کی اس عمارت کا بھی دورہ کیا جو پیر کے دن کے وقت حملے میں نشانہ بنی تھی۔
- اسی روز بوسنیا و ہرزیگووینا میں عام انتخابات ہوئے جو ملک کے یورپی یونین کی رکنیت کے راستے کے لیے فیصلہ کن ہیں؛ ہسپانیہ کے بڑے شہروں میں کرائے کے خلاف احتجاج بھی ہوئے۔
کیف میں آمد اور نارتھ برج پر حملہ
فریڈرک مرز، جو یوکرین کے مضبوط ترین یورپی حامیوں میں شمار ہوتے ہیں، اتوار کی صبح ایک غیر اعلانیہ دورے پر کیف کے مرکزی ریلوے اسٹیشن پر اترے۔ ان کے ہمراہ جرمن وزیر معیشت کیتھرائنا رائشے اور دفاعی و توانائی کمپنیوں کے دس سے زائد سربراہان ہیں، جن میں سیمنز انرجی، ہینسولٹ، ڈیل ڈیفنس اور کوانٹم سسٹمز کے نمائندے شامل ہیں۔

کیف ریلوے اسٹیشن پر جرمن وفد کی آمد کی عکاسی — یوکرینی حکام نے اسٹیشن پر چانسلر کا استقبال کیا۔
ان کی آمد کے کچھ ہی دیر بعد روس نے شہر کے نارتھ برج پر حملہ کر دیا، جو ریلوے اسٹیشن سے صرف 20 منٹ کی مسافت پر واقع ہے۔ کیف کے میئر ویتالی کلیچکو نے ٹیلی گرام پر لکھا کہ پل کی سڑک پر حملہ ہوا ہے اور ہنگامی خدمات موقع کی طرف روانہ کر دی گئی ہیں۔ شہر بھر میں فضائی حملے کے سائرن بج اٹھے اور دریائے دنیپر پر واقع پل سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا۔ اس سے ایک روز قبل جمعہ اور ہفتے کو بھی روس نے کیف کے ساؤتھ برج کو نشانہ بنایا تھا۔
کیف کا دورہ: امدادی پیکج اور ڈرون معاہدہ
مرز نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا کہ “یوکرین فیصلہ کن ہفتوں کا سامنا کر رہا ہے۔ اسی لیے میں آج کیف کا سفر کیا اس پیغام کے ساتھ: آپ ہم پر بھروسہ کر سکتے ہیں۔” جرمن حکام کے مطابق اس دورے کے دوران ایک ارب یورو کی فوجی امداد اور 35 کروڑ یورو توانائی کے شعبے کی بحالی کے لیے جاری کیے جائیں گے، جو سردیوں سے قبل کیف کے بجلی اور حرارت کے نظام کے لیے اہم ہے۔

ڈرون فیکٹری میں انٹر سیپٹر ڈرونز کی تیاری کی عکاسی — جرمنی اور یوکرین اس معاہدے کو حتمی شکل دینے جا رہے ہیں۔
اس دورے کا ایک اہم مقصد انٹر سیپٹر ڈرونز اور دیگر دفاعی ٹیکنالوجی کی مشترکہ پیداوار کے معاہدے کو حتمی شکل دینا ہے۔ جرمنی یوکرین کو ہزاروں انٹر سیپٹر ڈرون فراہم کرنے اور ایک ہزار کلومیٹر سے زیادہ فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کی مشترکہ تیاری کی رفتار بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ مرز نے اپنے بیان میں کہا کہ “اگر روس کو روکا نہ گیا تو اس کی جنگی مشین جلد یا بدیر ہماری طرف بھی رخ کرے گی۔”
کیف پر حملوں میں اضافہ اور سردیوں کے خدشات
یوکرینی حکام کے مطابق روس نے رواں سال دارالحکومت پر حملوں میں واضح اضافہ کیا ہے۔ کیف کے میئر ویتالی کلیچکو نے جمعے کو کہا تھا کہ شہر “بہت سنگین صورتحال” کا سامنا کر رہا ہے، کیونکہ روسی حملوں نے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور پلوں کو نشانہ بنایا ہے۔ یوکرینی شہری اب سردیوں سے قبل مزید حملوں کے لیے تیار ہو رہے ہیں۔
یورپ میں دیگر واقعات
اسی روز بوسنیا و ہرزیگووینا میں عام انتخابات ہوئے، جن میں ریاست کی تین رکنی صدارت اور پارلیمان کے ارکان کا انتخاب ہوا۔ ماہرین کے مطابق ان انتخابات کا نتیجہ ملک کے یورپی یونین میں شمولیت کے راستے کا تعین کرے گا۔ اس کے ساتھ ہسپانیہ کے بڑے شہروں میں کرائے کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے۔
نتیجہ
جرمن چانسلر فریڈرک مرز کا کیف کا غیر اعلانیہ دورہ ایسے نازک وقت میں ہوا ہے جب روس یوکرین کے دارالحکومت پر حملوں میں اضافہ کر رہا ہے۔ اس دورے کا مقصد یوکرین کو جرمنی کی مسلسل سیاسی اور عسکری حمایت کی یقین دہانی کرانا ہے، اور اعلان کردہ امدادی پیکج و ڈرون معاہدہ سردیوں سے قبل کیف کے دفاع اور توانائی نظام کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔


































