بلا عنوان!

محمد آصف اقبال، نئی دہلی

کرونا کی وبا جس سے گزشتہ سال دنیا کووڈ۹۱ سے متعارف ہوئی یہ ایسی وبا بن گئی ہے جس کی مثال گزشتہ کئی صدیوں پر محیط مطالعہ میں نہیں آتی۔یا یہ کہنا بھی بجا نہیں ہوگا کہ ایسی بیماری سے دنیا آج تک کبھی دوچار ہی نہیں ہوئی۔یہ وبا گرچہ حجم کے لحاظ سے نہایت ایک حقیر وائرس سے پھیلی اور جاری ہے۔جس کا اپنے آپ میں وجود کوئی معنی نہیں رکھتا لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت ہی ہے کہ ایک معمولی وائرس نہ صرف بے شمار انسانوں کی ہلاکت کا ذریعہ بن گیابلکہ بظاہر دنیا پر قدرت رکھنے والے ممالک اور ان کا نظام جس قدر متاثر ہوا ہے وہ بھی فکریہ لمحہ بن گیا ہے،نیز اس کے اثرات دیر پا ہونے کے امکان ہیں۔
یہ حالات عبرتناک بھی ہیں اور قابل توجہ بھی۔اس کے باوجود یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ دنیا میں چہار جانب اللہ تعالیٰ کی بے شمار نشانیاں موجود ہونے کے باوجود انسان وحدانیت کے تصور اور خالق کائنات کی خلاقی سے غافل ہے۔یہاں تک کہ ایک کثیر تعداد اس بات سے بھی ناواقف ہے کہ اُن کو بنانے والا کون ہے؟وہ اِس دنیا میں کیوں آئے ہیں؟اِس دنیا کے بعد کیا کچھ ہونے والا ہے؟ کامیابی اور ناکامی کیا ہے؟اور اِس دنیا میں کس طرح انہیں اپنی زندگی کے شب و روز گزارنے چاہیے؟
لیکن ایک گروہ ایسا ضرور موجود ہے جس کے پاس درج بالا سوالات کے درست جوابات موجود ہیں۔رب ذوالجلال کی صفات سے وہ بخوبی واقف ہے۔ساتھ ہی دنیا میں موجود چیزوں کی حقیقت سے وہ بھی واقفیت رکھتا ہے۔عقیدے اور علم کے لحاظ سے وہ دنیا میں موجود کثیر تعداد سے افضل ہے۔اور ان خوبیوں کے نتیجہ میں اس گروہ کی اپنی شناخت اور پہچان بھی اسے خصوصی وجود بخشتی ہے۔اس لحاظ سے خصوصا موجودہ حالات کے پس منظر میں اور عموماً تمام حالات میں زماں و مکاں کی قیود سے بالاتر اس مخصوص گروہ کی سب سے اہم ذمہ داری ہے کہ وہ دنیا کو غفلت سے نکالے۔دنیا اور اس کے بعد کی زندگی میں خوشخبری سنانے والے اور بشارت دینے والے گروہ کی حیثیت سے سامنے آئے۔یعنی دنیا میں موجود جملہ وسائل،جس حد تک بھی اس کے اختیار میں ہوں،ان کا استعمال کرتے ہوئے نیز اپنے اخلاق حسنہ سے دنیا کے انسانوں پر فوقیت حاصل کرتے ہوئے مسائل کا حل پیش کرے،مسائل کو دور کرنے میں تعاون فراہم کرے،مسائل کے خاتمہ میں اشتراک کے ساتھ آگے بڑھے،اوراپنے قول و عمل سے خوشیاں،امن،راحت اور سکون پہنچانے کا ذریعہ بنے۔
مقاصد کے حصول میں اس گروہ کو فرداً فرداً اور اجتماعی لحاظ سے ایک عظیم جدوجہد کے لیے تیار ہونا چاہیے۔اور اس بات کو پیش نظر رکھنا چاہیے کہ معمولی مقصد کے حصول میں بھی وقت،صلاحیت اوروسائل کی قربانی درکار ہوتی ہے تو پھر یہ کیونکر ممکن ہے کہ عظیم مقصدکا حصول بلاقربانی حاصل ہوجائے گا؟
عظیم مقصد اگر واقعی آپ کے اور میرے جذبات میں سرایت کرچکا ہے،یہ مقصد اگر چنگاری کی شکل میں آشکارا ہوچکا ہے،تو پھر یہ خواب خرگوش نہیں ہے،یہ کوئی ماعوف الدماغ انسان کا قول بھی نہیں ہے،یہ صرف خواہش بھی نہیں ہے،یہ ایک عظیم مقصد ہے کہ دنیا امن کا گہوارہ بن جائے اور دنیا کا انسان حقیقی کامیابی سے دوچار ہوجائے۔نتیجہ میں دنیا بھی اس کے استقبال کے لیے راستے ہموار کرچکی ہے اور آنکھ بند ہوتے ہی آخرت کی خوشیاں اور بشارتیں تو پہلے سے ہی موجود ہیں۔
پھر کیا غم ہے اور کس سوچ میں غرق ہے وہ گروہ اور اس کے افراد جنہیں خود اس کے خالق حقیقی نے فضیلت کے ساتھ اس دنیا میں بھیجا ہے؟واقعہ یہ ہے کہ نہ غم ہے اور نہ ہی کسی سوچ میں وہ غرق ہے بلکہ وہ خود غفلت کا شکارہے،اپنے وجود سے،اپنے مقصد سے اور اپنی مبارک جدوجہد سے۔لیکن اس بات کے پورے امکان موجود ہیں کہ صالح روحوں کے فکر و عمل کو اگردرست کردیا جائے،صراط مستقیم پر انہیں گامزن کردیا جائے،انہیں پاک و صاف کردیا جائے تو وہ چمکتے ہوئے تارے کی مانند ہوجائیں گی۔اور یہ چمکتے ہوئے حسین وجمیل اور خوبصورت تارے،تاریکی کو ختم کرکے چہار جانب روشنی پھیلانے کا ذریعہ بن جائیں گے۔
تو کام یہ ہے کہ فکر کی اصلاح کی جائے،کاموں کو تقسیم کیا جائے،فرد واحدکے ذریعہ اگرچہ وہ خود کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو کسی ایک کام سے بھی جدوجہد کا آغاز کیا جاسکتا ہے اور اجتماعی سطح پر کئی کاموں کی تقسیم کے ساتھ اس مبارک مقصد میں وقت،صلاحیت اور وسائل کے استعمال کے ساتھ پیش رفت کی جاسکتی ہے۔پھر جس وقت جدوجہد کا آغاز ہوجائے گا،چاہے انفرادی ہو یا اجتماعی،سکون و اطمینان اور خوشیاں اور بشارتیں سچ ہوتی نظر آنے لگیں گی۔جن تصورات اور خواہشات کو اب تک دلوں میں لیے گھوم رہے تھے وہ حقیقت میں ظاہر ہونے لگیں گی۔ محبتیں بھی پروان چڑھیں گی اور نفرتیں اور کدورتیں بھی دورہوتی نظر آئیں گی۔
لیکن ایک بات ہمیشہ پیش نظر رہنی چاہیے کہ مقاصد وقتی اور ہنگامی جدوجہد سے حاصل نہیں ہوتے،یہ دیر پا اور مستقل ہونی چاہیے۔یہ ممکن ہے کہ کبھی رفتار مدھم اور تیز ہوجائے لیکن یہ ممکن نہیں ہے کہ ایک بار شروع کی گئی جدوجہد کو کچھ دن کی سعی کے بعد روک دیا جائے۔یہ سعی ہر دن ہونی چاہیے اور ہر لمحہ دلوں میں اور جذبات میں تازہ رہنی چاہیے،تب ہی ممکن ہے کہ اللہ ہم سے راضی ہو اور ہم اللہ کے عہد و پیمان کو حقیقت میں تبدیل ہوتا دیکھیں!

اپنا تبصرہ بھیجیں