برسلز: انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو مقبوضہ کشمیر تک رسائی ملنی چاہیے، وبینار کے مقررین کا مطالبہ

برسلز (پ۔ر)
بلجیم میں قائم کشمیرکونسل ای یو کے زیراہتمام وبینار کے مقررین نے زور دیا ہے کہ انسانی حقوق کی عالمی تنطیموں کے نمائندوں کو مقبوضہ کشمیر تک رسائی دی جائے۔
ستائیس اکتوبر (یوم سیاہ) کے موقع پر اس آن لائن سیمینار کے دوران نقابت کے فرائض کینیڈا میں مقیم انسانی حقوق کی نوجوان کارکن اور سٹوڈنٹ انٹرنیشنل لیگ کشمیر (سلک) کی شریک بانی حولہ صدیقی نے انجام دیے۔ ستائیس اکتوبر کا دن کشمیر کی تاریخ کا وہ تاریک ترین دن ہے، جب بھارتی فوج نے جموں و کشمیر کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کرلیا تھا۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین کشمیرکونسل ای یو علی رضا سید نے کہاکہ ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کو مقبوضہ کشمیر میں کام کرنے کی اجازت نہیں۔ بھارت نے حتیٰ کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل پر بھارت میں بھی پابندی لگا دی ہے اور اسے بھارت میں کام کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کے بارے میں انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے لوگ پہلے ہی پچھلے سال پانچ اگست سے ملٹری لاک ڈاؤن کا سامنا کررہے ہیں اور کرونا وائرس کی وجہ سے صورتحال مزید خراب ہوگئی ہے۔
انہوں نے یورپی یونین سمیت عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ بھارت پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو بند کرے۔ علی رضا سید نے مزید کہاکہ کشمیری مسئلہ کشمیر کے بنیادی فریق ہیں اور تنازعہ کشمیر کا کوئی بھی حل ان کی مرضی کے بغیر نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ مسئلے کے پرامن حل کے لیے کشمیریوں، پاکستان اور بھارت کی مدد کرے۔
مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے ماہر قانون اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے سکالر مرزا صاحب بیگ نے بتایا کہ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں کوئی سویلین حکومت نہیں اور وہاں کے لوگ دنیا میں سب سے زیادہ مصائب کا شکار ہیں۔ وہ پہلے ہی اپنے بنیادی حقوق سے محروم تھے اور اب ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔مرزا صاحب بیگ نے کہاکہ ہمیں ہمدردی کے لفظ سے زیادہ کی ضرورت ہے، عالمی برادری کو ہمارے ساتھ پختہ عہد کرنا ہوگا تاکہ ہم اپنے بنیادی حقوق اور پائیدار امن و مستقل خوشحالی حاصل کرسکیں۔
انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں ظلم کرنے والوں کا کوئی احتساب نہیں، کوئی عدالتی کاروائی نہیں اور نہ کوئی قانون ساز ادارہ ہے جبکہ فوج کو انسانیت کے خلاف جرائم کے لیے مکمل استثناء حاصل ہے۔ ڈومیسائل کے قواعد کو تبدیل کیا جارہا ہے تاکہ کشمیریوں کی آبادی کا تناسب تبدیل کیا جاسکے۔ ریاست کا صحت کا نظام، بنک کا نظام، مواصلاتی نظام (فون و انٹرنیٹ وغیرہ) اور پوسٹل سروس کو پانچ اگست ۲۰۱۹ کے بعد بند کردیا گیا تھا جو کہ انسانی حقوق کے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔وبینار کے دوران رومانیہ کے سینئر صحافی میکلوس کیریوانسکی نے کہاکہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو یکجہتی کی ضرورت ہے اور عالمی برادری کے علاوہ، بھارت کی سول سوسائٹی کو بھی چاہیے کہ وہ جموں و کشمیر کے مظلوم لوگوں کی مدد کرے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے علاوہ، غیرملکی صحافیوں کو بھی مقبوضہ کشمیر تک رسائی حاصل نہیں۔ بھارت کے حکام اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں اور چونکہ ہمیں مقبوضہ کشمیر تک رسائی حاصل نہیں، اس لیے ہم اصل صورتحال سے ناواقف ہیں۔سابق رکن یورپی پارلیمنٹ شفق محمد نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر کے لوگ لاک ڈاؤں کی وجہ سے کافی عرصے سے پریشان ہیں۔ وہ بنیادی صحت کی سہولیات، مواصلاتی رابطوں اور دیگر بنیادی سروسز سے محروم ہیں۔ کرونا سے پہلے بھی صورتحال خراب تھی اور اب مزید خراب ہوگئی ہے۔
شفق محمد نے یورپی یونین سے کہاکہ اپنے بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدوں کو شہری آزادیوں اورانسانی حقوق کے احترام سے مشروط کرے۔سابق رکن برسلز پارلیمنٹ ڈینیل کارون نے کہاکہ کشمیر کے لوگوں کو امن کی ضرورت ہے اور دنیا کو ان کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی دکھانی ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ کشمیری تشدد کا شکار ہیں اور ان کے مسائل کو پرامن طور پر حل ہونا چاہیے۔
سیمینار میں سابق سفیر یورپی یونین انتھونی کرزنر اور ہنگری کے سینئر صحافی اندرے بارسس نے بھی شرکت کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں