ٹرمپ کی دماغی حالت ٹھیک نہیں ,ایٹمی بٹن سے دور رکھیں ,ایوان نمائندگان کی سپیکر کا فوجی سربراہ سے رابطہ

امریکی ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پلوسی نے چیئرمین جوائنٹ چیفس جنرل مارک ملی سے رابطہ کر کے کہا کہ ٹرمپ کی دماغی حالت ٹھیک نہیں ،صدر کوایٹمی بٹن سے دور رکھیں اوراس بات کو یقینی بنائیں کہ بد حواس ٹرمپ صدارت کے آخری ایام میں ایٹمی حملہ نہ کر ادیں۔ ڈیموکریٹک ارکان کے نام اپنے خط میں سپیکر نے لکھا کہ انہوں نے جنرل مارک ملی سے مختلف احتیاطی اقدامات پر بات کی ہے تاکہ ایک نا قابل اعتبار صدر کو فوجی کارروائیاں شروع کرنے یا پھر ایٹمی حملے کا حکم دینے کیلئے مخصوص کوڈز تک رسائی سے روکا جا ئے ۔ انہوں نے خط میں لکھا کہ ہمیں اپنے ملک اور جمہوریت پر اس شخص کے غیر متوازن حملے سے امریکی عوام کو بچانے کیلئے ہر ممکن کوشش کرنا ہو گی،سپیکر نے مزید کہا کہ اگر ٹرمپ خود مستعفی نہیں ہوتے یا نائب صدر پنس 25 ویں آئینی ترمیم کے تحت ان کے خلاف کارروائی نہیں کرتے تو پھر ہم ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی شرو ع کرنے کیلئے تیار ہیں۔ فوجی ترجمان کرنل ڈیو بٹلر نے سپیکر نینسی پلوسی کے چیئرمین جوائنٹ چیفس سے رابطے کی تصدیق کردی ۔سینئر ریپبلکن رکن کانگریس کیون میکارتھی نے صدر ٹرمپ کے مواخذے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کیپٹل ہل میں جو کچھ ہوا، ناقابل قبول اور غیر جمہوری ہے ، مگر صدارتی مدت ختم ہونے سے صرف 12 روز قبل ٹرمپ کے مواخذے سے قوم مزید تقسیم ہو جائیگی۔ دوسری طرف ٹرمپ کے حامیوں کے حملے کے بعد کانگریس کی عمارت کوپہلی مرتبہ 7فٹ اونچی خاردارتار لگا کر سیل کر دیا گیاہے ، سیکرٹری آرمی ریان میکارتھی نے بتایا کہ کیپیٹل ہل کے گرد خار دار باڑ30 دن تک لگی رہے گی۔ امریکی محکمہ انصاف نے اعلان کیا ہے کہ کانگریس بلڈنگ پر حملے میں ملوث 15 افراد پر فرد جرم عائد کر دی گئی ہے ، ان میں سے ایک شخص پر بم رکھنے کا الزام لگایا گیا ہے ۔ کانگریس پر مشتعل افراد کے حملے کے دوران زخمی ہونے والا پولیس اہلکارہسپتال میں گزشتہ روز چل بسا جس کے بعد واشنگٹن ہنگاموں میں مرنیوالوں کی تعداد 5 ہو گئی ہے ۔امریکی وزیر ٹرانسپورٹ ایلن چا کے مستعفی ہونے کے بعد خاتون وزیر تعلیم بیٹسی ڈیووس نے بھی استعفیٰ دے دیا ۔ بیٹسی ڈیووس نے ٹرمپ کے نام اپنے خط میں لکھا کہ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ آپ کا خطاب صورت حال پر اثر انداز ہوا ۔ٹرمپ نے 20جنوری کو جو بائیدن کی حلف برداری تقریب میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کردیا ۔ نیوز ایجنسی کے مطابق 1869 کے بعد ٹرمپ پہلے سبکدوش ہونیوالے صدر ہیں جو نئے صدر کی حلف برداری میں شرکت نہیں کریں گے ، یہ تاریخ 151سال بعد دوہرائی جائے گی۔دوسری طرف نومنتخب صدرجوبائیڈن نے پارلیمنٹ پر حملہ کرنے والوں کودہشت گرد قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ نے جمہوری اداروں پر حملہ کیااورامریکی ووٹرز کی آواز دبانے کی کوشش کی ۔امریکی صدر ٹرمپ نے پارلیمان پر حملے کے الزامات حامیوں پر ڈالتے ہوئے کہامظاہرین نے امریکی جمہوریت کو نقصان پہنچایا اور جو لوگ اس کشیدگی اور نقصان میں شامل تھے وہ ہمارے ملک کی نمائندگی نہیں کر تے اور جنہوں نے قانون توڑا ان کو سزابھگتناپڑے گی۔صدر ٹرمپ نے صدارتی مدت ختم ہونے سے قبل خود کو عام معافی دینے کیلئے معاونین سے مشاورت شروع کر دی۔یاد رہے ٹرمپ نے جون 2018 کے ایک ٹویٹ میں کہا تھا ‘‘میں خود کو عام معافی دینے کا مکمل حق رکھتا ہوں مگر میں خود کو کیوں عام معافی دوں جبکہ جب میں نے کچھ بھی غلط نہیں کیا ہے ’’۔دوسری طرف پالیسیوں کی خلاف ورزیوں کے باعث بند کیاجانیوالاٹرمپ کا ٹویٹر ا کاؤنٹ 12 گھنٹے بعد بحال کردیا گیا۔دریں اثنا برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ انتخابی شکست تسلیم کرنے کی ویڈیو جاری کرنے کیلئے تیار نہ تھے مگر جب وائٹ ہاؤس کے وکیل نے انہیں خبردار کیا کہ لوگوں کو اکسانے کے الزام میں انہیں فوجداری مقدمے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے تو پھر وہ ویڈیو جاری کرنے پر تیار ہو گئے ۔ امریکی محکمہ انصاف کے مطابق صدر ٹرمپ کو کیپٹل ہل پر حملے کیلئے مظاہرین کواکسانے کے الزامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ ٹرمپ کے وکیل مائیکل شرون نے کہا کہ ہماری نظریں کیپٹل ہل پر حملے کے اصل کرداروں پر لگی ہیں۔کانگریس پر حملے کوشرمناک قرار دیتے ہوئے ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ اس سے جمہوریت بدنام ہوئی

اپنا تبصرہ بھیجیں