وطن نیوز انٹر نیشنل

معاشرے کی اخلاقیات اور اقدار کا معیار بلند کیاجائے ، وزیر اعظم عمران خان

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مسلمان نوجوانوں کو اسلام کا پیغام دیتے ہوئے معاشرے کی اخلاقیات اور اقدار کا معیار بلند کیاجائے ، اسلامی سکالرز نے اپنی تہذیب ، مذہب اور تاریخ پر فخر کرتے ہوئے نوجوانوں کی روحانی اور اخلاقی تربیت پر زور دیا ہے ۔

اتوار کو وزیر اعظم عمران خان نے قومی رحمت للعالمین اتھارٹی کے زیر اہتمام ریاست مدینہ ، اسلام ، معاشرہ اور اخلاقی بیداری کے موضوع پر مکالمہ کی دوسری نشست کی میزبانی کی ، مکالمہ سے جارج واشنگٹن یونیورسٹی امریکا کے اسلامک سٹیڈیز کے پروفیسر ڈاکٹر سید حسن نصر ، زیتونا کالج امریکا کے صدر ڈاکٹر حمزہ یوسف ، کیمبرج مسلم کالج برطانیہ کے ڈین ڈاکٹر عبدالحکیم ، ملائیشیاء سے تعلق رکھنے والے مفکر ڈاکٹر چندرا مظفر، ڈاکٹر عثمان باقر ، ابن خلدون یونیورسٹی ترکی کے ریکٹر ڈاکٹر رجب شنتک ، متحدہ عرب امارات کی فتوا کونسل کے چیئرمین عبداللہ بایا نے بھی خطاب کیا۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ آج کے مسلمان نوجوانوں کو ہم نے اسلام کے مطابق پیغام دینا ہے ، ہر ماہ یا دوسرے ماہ اسطرح کی ایک نشست کا اہتمام کریں گے جہاں ہم دورحاضر کے مسائل کے بارے میں بات کریں جو اسلامی دنیا کے بہت اہم ہے اور وہاں اسلامی سکالرز کے خیال سے مستفید ہوں ۔

وزیر اعظم نے کہا کہ میرا رحمت اللعالمین اتھارٹی بنانے کے پیچھے یہی تصور تھا کہ حضرت محمدۖﷺ کی سیرت کے ذریعے ہم مسلمانوں کو متحد کریں، ہم اپنے معاشرے کی اخلاقیات اور اقدار کا معیار بلند کریں جیسا کہ ریاست مدینہ میں ہمارے پیغمبرۖ ﷺنے 15سو سال قبل کیا تھا۔

جارج واشنگٹن یونیورسٹی امریکا کے اسلامک سٹیڈیز کے پروفیسر ڈاکٹر سید حسن نصر نے کہا کہ انسانی وجود کو بہت سی مشکلات کا سامنا ہے، غیر سنجیدہ لوگ اسلام پر بات کرتے ہیں ، ہمیں گفتگو سے زیادہ عمل کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام دور حاضر کے فوری نوعیت کے مسائل کا حل پیش کرتا ہے ۔

زیتونا کالج امریکا کے صدر ڈاکٹر حمزہ یوسف نے کہا کہ خواہش کا حد سے بڑھ جانا معاشرے کو نقصان پہنچاتا ہے ، اللہ نے ہمیں خواتین اور بچوں کے تحفظ کی ذمہ داری سونپی ہے ، ہمیں نوجوانوں میں خواتین کا احترام پیدا کرنے کی سوچ اجاگر کرنا ہوگی، نیک لوگ ہی خواتین کی عزت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں نبیۖﷺ کی سنت پر عمل کرنا ہوگا۔

کیمبرج مسلم کالج برطانیہ کے ڈین ڈاکٹر عبدالحکیم مراد نے کہا کہ خواتین کو ہراسانی سمیت مختلف جرائم کا سامنا ہے، آزاد خیال لوگ کسی چیز کو سینسر نہیں کرنا چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ مسائل کو عالمی سطح پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔

ابن خلدون یونیورسٹی ترکی کے ریکٹر ڈاکٹر رجب شنتک نے کہا کہ نوجوانوں کو اخلاقیات اپنانے کی ضرورت ہے ، جدت پسندی ، آزاد خیالی کا خطرہ منڈلا رہا ہے، ہمیں اپنے ماضی کو محفوظ بنانا ہوگا ۔

ملائیشیاء سے تعلق رکھنے والے مفکر ڈاکٹر چندرا مظفر نے کہا کہ نوجوانوں کو اپنی تہذیب ، مذہب اور تاریخ پر فخر ہونا چاہئے۔ نوجوان بتائیں کے دنیا میں کیا کچھ غلط ہو رہا ہے، وہ بتائیں کہ ہمیں مسائل کے فوری حل کی ضرورت کیوں ہے، ایسا کرنے سے نوجوانوں کو اپنی پوزیشن واضح کرنے کا موقع ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں میں انسانی کی عظمت کا واضح تصور موجود ہے ۔

ملائیشیاء کی یونیورسٹی آف ملایا کہ پروفیسر ڈاکٹر عثمان باقر نے کہا کہ نوجوان سمجھتے ہیں کہ اسلام کو محدود کردیا گیا ہے ، بین المذاہب ہم آہنگی کا ہونا لازم ہے ، اس وقت روایتی اور جدید تعلیم یافتہ حلقوں میں مقابلہ ہے۔

متحدہ عرب امارات کی فتوا کونسل کے چیئرمین عبداللہ بایا نے کہا کہ انٹرنیٹ ، سوشل میڈیا اور دیگر نے نوجوانوں پر بے پناہ اثرات مرتب کئے ہیں،اللہ نے ہمیں امن اور سکون کی نعمت عطا کی ہے ، ہمارے ہاں مسلم دنیا میں ایک ایسی یونیورسٹی ہونی چائے جہاں اخلاقیات اور اقدار کی ترویج ہو ، ہمیں فلسفہ اور تصوف کی جانب لوٹ کر آنا ہے ، ہمارے پاس وسائل بھی ہیں ، انہوں نے کہا کہ پاکستان میں لوگوں کو اقبال جیسی روحانی شخصیت ملی ،نوجوانوں کو کسی بھی بات کا رد عمل دلائل کیساتھ دینا چاہئیں، نوجوانوں کی روحانی اور اخلاقی تربیت کا اہتمام کرنا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ عالمگریت ایک نیا مظہر ہے لیکن یہ ناگزیر ہے ہمیں اس کا سامنا کرنا اور اس سے نمٹنا ہے ، کامل فلسفے اور تصوف سے ہی ہم اس کا مقابلہ کرسکتے ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

0