وطن نیوز انٹر نیشنل

المیوں پر سیاسی دکان چمکانے والے انسانیت سے عاری ہیں، شبلی فراز

وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے مریم نواز شریف کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ المیوں پر سیاسی دکان چمکانے سے باز نہ آنے والے انسانیت سے عاری ہیں۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری ردعمل میں شبلی فراز کا کہنا تھا کہ انسانیت سے عاری اور بے حس وہ ہیں، جو المیوں پر بھی سیاسی دوکان چمکانے سے باز نہیں آتے۔

شبلی فراز کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے بلیک میلنگ کا لفظ انہی لوگوں کیلئے استعمال کیا جو ہر معاملے پر سیاست کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم مظلوموں کے دکھوں میں برابر کے شریک ہیں اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف دلانا اپنا اولین فریضہ سمجھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان انسانیت سے عاری، لاشوں کے ساتھ ضد لگا کر بیٹھے ہیں:مریم نوازشریف

خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز شریف نے ہزارہ برادری کے شہدا کی تدفین کے معاملے پر وزیراعظم عمران خان کے بیان پر انھیں انسانیت سے عاری انسان قرار دیدیا ہے۔

کراچی میں میڈیا سے گفتگو میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ ہزارہ برادری پر قیامت ٹوٹ پڑی ہے۔ ہم لوگ گزشتہ روز انھیں دلاسہ دینے گئے تھے، اس کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے لاہور جانا تھا، کوئٹہ سے واپسی پر کراچی رکنا پڑا، میرا یہاں پریس کانفرنس کا کوئی پروگرام نہیں تھا لیکن وزیراعظم کے حالیہ بیان نے مجھے انھیں جواب دینے پر مجبور کر دیا ہے۔

مریم نواز شریف نے کہا کہ میری گزشتہ روز ہزارہ برادری کی کچھ خواتین سے ملاقات ہوئی جنہوں نے بتایا کہ ان گھر میں جنازے اٹھانے کیلئے کوئی مرد نہیں بچا۔ گزشتہ چھ روزسے قوم کی مائیں اور بہنیں ‘’بے حس شخص’’ کا انتظار کر رہی ہیں۔ اگر آپ ان کے دکھ درد میں شریک نہ ہوئے تو بعد میں جانے کی ضرورت ہی کیا ہے۔

انہوں نے وزیراعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر تکبر کا کوئی چہرہ ہوتا تو وہ عمران خان کا چہرہ ہوتا جو مظلوموں کی لاشوں کیساتھ ضد لگا کر بیٹھے ہیں۔ متاثرین دست شفقت کے علاوہ وزیراعظم سے کچھ نہیں مانگ رہے۔

مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ ہزارہ برادری کی وجہ سےپوری قوم سوگ میں ہے۔ ہزارہ برادری کے دکھ میں شریک ہونا وزیراعظم عمران خان کی ذمہ داری نہیں بلکہ فرض تھا۔ اس کا جواب آپ کو اللہ تعالیٰ اور عوام کو دینا پڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ قوم جاننا چاہتی ہے کہ ایسی کون سے مجبوری تھی کہ اس نے وزیراعظم کو ہزارہ برادری کے دھرنے میں جانے سے روکا۔ آپ شرطیں لگاتے ہو کہ میتیں دفنا دیں پھر آؤں گا۔ عوام کو بتایا جائے کہ یہ ‘’تابعداری’’ ہے یا کسی قسم کی ‘’توہم پرستی’’ ہے۔ آپ جا نہیں سکتے تو ہمدردی کے دو بول ہی بول دیتے۔

یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ کسی ملک میں وزیراعظم کو اس طرح بلیک میل نہیں کیا جاتا، میں نے اپنے وزرا کو سانحہ مچھ کیخلاف دھرنے میں بھیجا، ان کے تمام مطالبات تسلیم کئے، میری وہاں آمد پر تدفین کی شرط سمجھ سے بالاتر ہے۔ ہزارہ برادری اپنے لوگوں کی تدفین کرے تو میں آج ہی ان سے ملاقات کیلئے وہاں پہنچ جاؤں گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

0