لاہور کو انتظامی اور مالی طور پر 2 حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ

پنجاب حکومت نے لاہور کی انتظامی تقسیم کافیصلہ کرلیا۔ لاہور کو بھی کراچی کی طرز پر اضلاع میں تقسیم کرنے کی تجویز دے دی گئی ۔وزیر اعلیٰ نے تجویز کی حمایت کر کے مکمل ایکشن پلان مانگ لیا ۔تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی زیرصدارت اعلیٰ سطح کا مشاورتی اجلاس ہوا جس میں اس بات کا اعتراف کیا گیا کہ لاہور آبادی اور اپنے پھیلاؤ کے لحاظ سے بہت بڑا ہو چکا ہے ۔اس قدر بڑا لاہور ایک ڈپٹی کمشنر کے ذریعے چلانا بہت مشکل ہو چکا ہے ،اجلاس میں کچھ شرکا کی جانب سے کراچی کی طرز پر لاہور میں 2اور کچھ کی جانب سے 4 اضلاع کی تجویز دی گئی ، وزیر اعلیٰ نے آئندہ ہفتے مکمل پلان کے ساتھ بریفنگ مانگ لی۔ ذرائع کے مطابق قابل عمل تجاویز سامنے آنے کی صورت میں وزیر اعلیٰ کی جانب سے اس اس اقدام کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا، پی ڈی ایم کے لاہور کے جلسے سے پہلے اس ضمن میں حکومت پنجاب کی جانب سے اعلان کا امکان ہے ۔ چیف سیکرٹری پنجاب نے ٹاسک کمشنر لاہور ڈویژن کو سونپ دیا ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کو دس دسمبر تک مکمل بریفنگ دینے کا الٹی میٹم دیا گیا ۔ شہر کی تقسیم پر وزیر اعلیٰ پنجاب وزیر اعظم کو بریفنگ دیں گے ۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ شہر کو ضلعوں میں تقسیم کی حتمی اجازت وزیراعظم سے مشروط ہو گی ۔ لاہور کی زمینی اور انتظامی تقسیم کیلئے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو اور کمشنر لاہور سمیت دیگر افسران کی کمیٹی تشکیل دیدی گئی ۔ ضلع لاہور کو بڑھتی ہوئی آبادی کے تناسب میں لاء اینڈ آرڈر اور ٹریفک کی صورتحال کو بہتر کرنے کیلئے تقسیم کیا جایگا۔ ابتدائی مرحلہ میں ریور راوی لاہور خاص میں شامل ہو گا ۔تجویز کے مطابق ضلع لاہور کی دو حصوں میں تقسیم سے دوڈی پی اوز بھی لگائے جائینگے ۔ لاہور کی تقسیم سٹی اور ماڈل ٹائون صدر سے کی جائے ۔کمشنر کا کہنا ہے کہ سخت سوچ بچار کاکام ہے ۔ کراچی کی تقسیم پر مطالعہ کیا جا رہا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ لاہور کو چار اضلاع میں تقسیم کرنے کی تجویز گورننس کو مزید بہتر کرنے کے پیش نظر دی گئی ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں