مستنصر حسین تارڑ کو ”جوش اُردوایوارڈ 2020“پیش کیا گیا .

مستنصر حسین تارڑ کو ”جوش اُردوایوارڈ 2020“پیش کیا گیا
بزمِ اُردو دبئی کے زیراہتمام محفل اُردو2020
حضرت امیر خسرو کی صدارت میں ”مشاعرہ ءِ رفتگان” نے خوب رنگ جمایا
عہدسازشخصیت جوش کے نام سے منسوب ایوارڈ وصول کرنا میرے لئے باعثِ اعزاز ہے: مستنصر حسین تارڑ
’مشاعرہ ءِ رفتگاں‘ ایک تمثیلی مشاعرہ تھا جس میں بھارتی تھیٹر کے نامورومعروف اداکار امیر خسرو،ولی دکنی،قلی کتب شاہ،میر انیس،میر تقی میر، مرزا غالب، اکبر الہ آبادی، اقبال،جوش ملیح آبادی، فیض احمد فیض اور پروین شاکر جیسے عہد ساز شعراء کے کردار میں نظر آئے.
شاداب اُلفت /حسیب اعجاز
عالمی سطح پر فروغ اُردو کے لئے کوشاں بزم اُردو دبئی ایک غیر سیاسی، غیرمذہبی اور غیر منافع بخش تنظیم ہے جوحکومت دبئی کے کمیونٹی ڈویلمپنٹ اتھارٹی کے تحت لائسنس شدہ ہے۔بزم اُردو مختلف اقوام او رمذاہب پر مبنی ایک منفرد گروپ ہے۔ دبئی سے اُردو جیسی شیریں زباں کی محبت سے سرشاری کا شروع ہونے والا یہ بے مثال سلسلہ ہندوستان، پاکستان،نیپال، بنگلہ دیش سمیت اب پوری دنیا میں پھیل رہاہے اور دنیا کے ہر خطے سے اُردو ادب کے چاہنے والے آج بھرپور انداز میں بزم اُردو دبئی کی فروغِ ادب کی کاوشیں سے مستفید ہو رہے ہیں۔
بزم اُردو دبئی کے بینر تلے جہاں عالمی مشاعروں اور ادبی تقریبات کا سلسلہ جاری ہے وہاں یہ تنظیم ہر سال اُردو ادب کی قدآوار شخصیات کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں گزشتہ صدی کے نامور شاعر جوش ملیح آبادی کے نام سے منسوب جوشِ اُردو ایوارڈز بھی پیش کر رہی ہے جو کہ صرف دیکھاوے یا نام کی شیلڈ نہیں بلکہ یہ خالص چاندی کی وزنی دیدہ زیب شیلڈ ہے جس پر کی گئی نفیس و دلکش مینا کاری سے اِس کی خوبصورتی میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔اُردو ادب کے سب سے بڑے اِس ایوارڈ کیلئے اِس سال پاکستان کے تعلق رکھنے والی ہمہ جہت شخصیت مستنصر حسین تارڑ کے نام کا انتخاب کیا گیا آپ کی شخصیت اور صلاحیتیں کسی تعارف کی محتاج نہیں،ملکی اور غیرملکی یونیورسٹی کے شعبہ اُردو میں آپ کے ناول نصاب کا حصہ بن چکے ہیں جبکہ آپ کو صدارتی تمغہِ حسن کارکردگی اور کئی بے شمار اعزازات سے بھی نوازا جا چکا ہے جو آپ کی ادبی خدمات کا برملا اعتراف ہے۔بزم اُردو دبئی کے بانی اور جنرل سیکریٹری ریحان خان کے مطابق مستنصر حسین تارڑ کاجوش اُردو ایوارڈ 2020 قبول کرنا ایوارڈ کی توقیر میں اضافہ کرنے کے مترادف ہے اور ہمارے لئے باعث اعزاز و مسرت بھی ہے۔ قبل ازیں جوش ِ اُردو ایوارڈ بالترتیب شمس الرحمن فاروقی(2015)، جاوید اختر(2016)، مشتاق احمد یوسفی(2017)، بشیر بدر(2018) اور گوپی چند نارنگ(2019) کو پیش کئے جاچکے ہیں .
بزم اُردو دبئی کے زیراہتمام دوروزہ محفل اُردو 2020کا انعقاد اپنے طے شدہ شیڈول کے مطابق 17-18دسمبر کو ہوا جو کامیابی سے ہم کنار ہوا۔ اس برس کووڈ۔19کی قدغنوں کے رہتے بزم اردو کے دیگرسا ل بھر کے پروگراموں کی طرح یہ جلسہ بھی آن لائن ہوا۔تقریب تین حصوں پر مشتمل تھی،حصہ اول میں بزم ِ اُردو دبئی کی نمائندگی کرتے ہوئے رحمان فارس، سیدہ صائمہ نقوی اور حسیب اعجاز عاشر نے مستنصر حسین تارڑ کو اُن کے دولت کدہ پر جوش اُردو ایوارڈ 2020پیش کیا گیا۔حصہ دوم میں بعنوان”روبرو“ مستنصر حسین تارڑ کے رحمان فارس نے انٹرویو کیا جو بزم اُردو دبئی کے تمام سوشل میڈیا چینل پر لائیو چلایا گیا۔ ناظرین نے تارڑ صاحب سے اُن کی شخصیت اور قلمی سفر کے حوالے سے بے تکلف گفتگو کو پسند کیا جس کا اظہار وہ لائیو سٹریمنگ کے دوران اپنے کمنٹ سے کرتے رہے اُنہوں نے کوڈ جیسی تشویشناک صورتحال کے باوجود اِس شاندار تقریب کوعملی صورت دینے کو بھی خوب سراہا۔ گفتگو کے آغاز میں جوش اردو ایوارڈ پر تبصرہ کرتے ہوئے تارڑ صاحب کا کہنا تھا ” یہ ایک قابل اعزاز ایوارڈ ہے کیوں کہ اس سے پہلے یہ ایوارڈ مشتاق احمد یوسفی، پروفیسر گوپی چند نارنگ،شمس الرحمن فاروقی، ڈاکٹر بشیر بدرؔ جیسی بڑی ادبی شخصیات کو دیا جا چکا ہے”۔ اور اس ایوارڈ کے لئے انہوں نے بزم اردو دبئی کا شکریہ ادا کیا۔
یہ دونوں حصے تقریب کے پہلے روز نشر کئے گئے۔ دوسرے روز محفل کا تیسرا حصہ پیش کیا گیاجس میں بزم اردو دبئی کی خاص پیشکش” مشاعرہ ءِ رفتگاں ”، ایک تمثیلی مشاعرہ پیش کیا گیا جسے بزم اردو دبئی نے ہندستان مشہور تھیٹر گُروپ، پیئرو ٹروپ، ساتھ مل کر خاص طور پر اس سالانہ جلسے کے لئے تیار کیا تھا۔ اس ڈرامہ میں تھیٹر کے مانے ہوئے اداکاروں نے امیر خسرو،ولی دکنی،قلی کتب شاہ،میر انیس،میر تقی میر، مرزا غالب، اکبر الہ آبادی، اقبال،جوش ملیح آبادی، فیض احمد فیض اور پروین شاکر جیسے عہد ساز شعراء کے کردار میں نظر آئے۔ باالخصوص امیر خسرو کے کردار میں معروف تھیٹر اداکا، ٹی.وی. اینکر،فلم اداکار ابھنو چترویدی نے شائقین سے خوب داد و تحسین حاصل کی۔ مرزا غالب کا کردار ڈاکٹر سعید عالم نے نبہایا اور فیض احمد فیض کے کردار میں معروف مزاحیہ شاعر اور ٹی.وی. اینکر انس فیضی نظر آئے۔ اس آن لائن پروگرام کی کامیابی کا ثبوت یہ ہے کہ اس کو بزم اردو کے فیس بک پیج پر تقریباََ ۰۰۲۱ شائقین نے لاؤ دیکھا اور اپنے تاثرات کا اظہار مسلسل لائکس اور پیغامات کی صورت میں کرتے رہے۔ اس ڈرامہ کوپیٹریوٹ گروپ کے ڈائریکٹر، معروف ڈرامہ نگار اور اداکار ڈاکٹر سعید عالم نے لکھا اور اپنی ہدایت کاری سے سجایا ہے۔ ڈاکٹر سعید عالم کے متعدد ڈرامے دنیا بھر میں پذیرائی حاصل کر چکے ہیں۔’ غالب اِن نیو ڈیلہی’ نام کا انکا ڈراما ہندستان میں سب سے زیادہ مرتبہ کھیلا جانے والا ڈرامہ ہے جسکے پانچ سو سے زائد شوز ہو چکے ہیں۔ بزم کے جنرل سکریٹری ریحان خان نے جلسے کے دونوں دن بزم اردو دبئی کے معاونین اور خیر خواہوں کا شکریہ ادا کیا اور بزم اردو کی سال بھر کی کاوشوں کا رپورٹاج حاضرین کے سامنے پیش کیا۔انہوں بزم اردو کے عہد داران اور ممبران کو مبارکباد بھی پیش کی۔ جلسے کے دونوں دن نظامت کے فرائض عایشہ شیخ آشی نے انجام دیئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں