وطن نیوز انٹر نیشنل

سرفراز احمد میں گریم سمتھ، مائیکل کلارک، مصباح الحق سے زیادہ خوبیاں دیکھیں: آرتھر

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرفراز احمد میں وہ خوبی دیکھی جو جنوبی افریقا کے سابق کپتان گریم سمتھ، آسٹریلیا کے سابق کپتان مائیکل کلارک اور سابق پاکستانی کپتان مصباح الحق جیسے عظیم کپتانوں میں بھی نہیں تھی۔

سابق پاکستانی بیٹسمین اور کپتان عامر سہیل کے یو ٹیوب چینل پر گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ اور قومی ٹیم کو چیمپئنز ٹرافی جتوانے والے مکی آرتھر نے سرفراز احمد کو بہترین انسان قرار دیا۔

اپنے انٹرویو میں بات کو جاری رکھتے ہوئے مکی آرتھر نے کہا کہ سرفراز ایک بہترین لیڈر تھے، مجھے گریم سمتھ، مائیکل کلارک اور مصباح الحق کے ساتھ کام کرنے کا اعزاز حاصل ہے، یہ تمام اچھے لیڈرز تھے لیکن سرفراز میں ایک ایسی چیز تھی جو میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔

انہوں نے کہا کہ میدان میں سرفراز اپنی چلاتے تھے اور ڈسپلن قائم رکھتے تھے لیکن ان میں یہ خوبی تھی کہ وہ میدان سے باہر ڈریسنگ روم میں وہ انتہائی بردرانہ انداز میں کھلاڑیوں سے پیش آتے تھے۔

مکی آرتھر کا کہنا تھا کہ لوگوں نے دیکھا ہے کہ وہ میدان میں کس طرح پیش آتے ہیں لیکن لوگوں نے ڈریسنگ روم میں سرفراز کا دوسرا رخ نہیں دیکھا اور وہاں وہ ایک انتہائی مقبول لیڈر تھے۔ سرفراز کے ساتھ تعلقات بہت اچھے تھے اور انہیں ان کے ساتھ کام کر کے ہمیشہ بہت مزہ آیا۔

موجودہ سری لنکن کوچ نے سرفراز کی ٹی20 کرکٹ کے حوالے سے تکنیکی معلومات کو بھی سراہتے ہوئے مزید انکشاف کیا کہ سرفراز ہمیشہ گیم سے آگے کا سوچتے تھے۔

قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ کی حیثیت سے مکی آرتھر نے اپنے دور کو بہترین قرا دیتے ہوئے کہا کہ میں اپنے کام کے ایک ایک لمحے سے لطف اندوز ہوا اور میں چاہتا تھا کہ جب میں چھوڑ کر جاؤں تو ٹیم ہر شعبے میں پہلے سے بہتر ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ میرا ماننا ہے کہ ہم ورلڈ کپ جیت سکتے تھے، مجھے یہ پڑھ کر انتہائی مایوسی ہوتی ہے جب یہ کہا جاتا ہے کہ ہماری ورلڈ کپ کی مہم انتہائی تباہ کن اور مایوس کن رہی، ویسٹ انڈیز کے خلاف میچ کا ہمیں نقصان اٹھانا پڑا اور ہم نے مشترکہ طور پر چوتھے نمبر پر ایونٹ کا اختتام کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم مجموعی رن ریٹ پر نیوزی لینڈ سے مات کھا گئے لیکن ہم نے نیوزی لینڈ اور انگلینڈ دونوں کو شکست دی جو دونوں فائنلسٹ ٹیمیں تھیں اور میرا خیال ہے کہ ہم سب سے بہترین ٹیم تھے جس نے ایونٹ کا بہترین انداز میں خاتمہ کیا کیونکہ ہم نے اپنے آخری 6 میں سے پانچ میچوں میں کامیابی حاصل کی۔

سری لنکن ٹیم کے ہیڈ کوچ کی ذمے داریاں نبھانے والے مکی آرتھر نے پاکستانی میڈیا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں میڈیا کو جھیلنا بہت مشکل ہے کیونکہ وہ کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے۔

انہوں نے پاکستانی ٹیم کے ہیڈ کوچ کی حیثیت سے اپنی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ٹیم کے ڈھانچے کو تیار کرنے کے ساتھ ساتھ کھلاڑیوں کی فٹنس کو بہتر بنایا اور نوجوان ٹیلنٹ کو منظر عام پر لائے۔

البتہ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ عظیم بلے بازوں یونس خان اور مصباح الحق کے بعد وہ ٹیسٹ ٹیم کو دوبارہ صحیح شکل میں نہ ڈھال سکے۔

اس موقع پر انہوں نے انے جانشین اور قومی ٹیم کے موجودہ ہیڈ کوچ مصباح الحق کو مستقل مزاجی سے چلنے کا مشورہ بھی دیا۔

انہوں نے مصباح کے نام پیغام میں کہا کہ آپ کو اپنے فیصلوں، کھلاڑیوں کے انتخاب اور کوچنگ میں مستقل مزاجی کا مظاہرہ کرنا ہو گا، یہ سب سے اہم چیز ہے کیونکہ یہ کھلاڑیوں کو پروان چڑھائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں